17 اگست 2026 - 17:26
اسرائیل کے ’پاگل ریاست‘ ہونے پر سوال؛ نئی امریکی کتاب میں تل ابیب اور اسرائیلی لابی پر سخت تنقید

دو امریکی مصنفین نے اپنی نئی کتاب میں اسرائیل کے موجودہ طرزِ عمل کو انہی معیاروں پر پرکھنے کا سوال اٹھایا ہے جنہیں ایک اسرائیلی نظریہ دان نے کبھی اسرائیل کے دشمنوں کو ’’پاگل ریاست‘‘ قرار دینے کے لیے پیش کیا تھا۔ کتاب میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیلی لابی کا واشنگٹن کی خارجہ پالیسی پر بڑھتا اثر و رسوخ امریکی مفادات اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تحقیقاتی صحافی ایلی کلفٹن اور امریکی سیاسیات کے ماہر ایان لوستک کی نئی کتاب ’’اسرائیلی لابی: ایک غیر ملکی طاقت کے شکنجے میں امریکا‘‘ 11 اگست کو شائع ہوئی ہے۔ کتاب میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات اور امریکی خارجہ پالیسی پر اسرائیلی لابی کے اثر و رسوخ کا جائزہ لیا گیا ہے۔

مصنفین نے اسرائیلی نظریہ دان اور یونیورسٹی کے سابق استاد یحزقیل درور کی 1971 میں شائع ہونے والی کتاب ’’پاگل ریاستیں؛ ایک غیر معمولی تزویراتی مسئلہ‘‘ کا حوالہ دیا ہے۔ درور نے اس کتاب میں اسرائیل کے دشمنوں کو ’’پاگل‘‘ قرار دینے کے لیے کچھ معیار پیش کیے اور ایسے حالات میں پیشگی جنگ، تباہی اور نابودی جیسے اقدامات کو قابلِ جواز قرار دینے کی بحث کی تھی۔

کلفٹن اور لوستک نے سوال اٹھایا ہے کہ پانچ دہائیاں گزرنے کے بعد درور کے وضع کردہ یہی معیار آج خود اسرائیل پر کس حد تک لاگو ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق دوسروں کو نقصان پہنچانے والے مقاصد کا مسلسل تعاقب، ان مقاصد کے حصول پر اصرار اور بین الاقوامی اخلاقی و قانونی اصولوں کی خلاف ورزی کے باوجود اخلاقی برتری کا دعویٰ ایسے عوامل ہیں جن کی روشنی میں اسرائیل کے موجودہ طرزِ عمل کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

مصنفین نے اسرائیل میں دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی طاقت کو بھی اس صورتحال کا اہم پہلو قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق کنیسٹ میں گزشتہ دہائیوں کے دوران دائیں بازو کے ارکان کی تعداد میں نمایاں اضافہ جبکہ بائیں بازو کی نمائندگی میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔

کتاب میں خاص طور پر اسرائیلی لابی کے امریکی پالیسی سازی پر اثرات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مصنفین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل کو درور کے معیار کے مطابق ’’پاگل ریاست‘‘ سمجھا جائے تو امریکا میں اسرائیلی لابی کا اثر و رسوخ واشنگٹن کو بھی ایسی پالیسیوں کی طرف دھکیل سکتا ہے جو خود امریکی قومی مفادات کے لیے نقصان دہ ہوں۔

کلفٹن اور لوستک نے اس حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی حمایت میں امریکی پالیسی کا مسلسل جھکاؤ واشنگٹن کو ایسے فیصلوں میں الجھا سکتا ہے جو نہ صرف امریکا کے مفادات کو نقصان پہنچائیں بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کریں۔

مصنفین نے 2022 کے اسرائیلی انتخابات کے بعد کنیسٹ کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 63 ارکان اسرائیل کی سرحدوں کے معاملے پر انتہائی دائیں بازو کے مؤقف کے حامل تھے۔

یوں کتاب کا بنیادی سوال صرف اسرائیل کی پالیسیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ امریکا کی خارجہ پالیسی کس حد تک اپنے قومی مفادات کے بجائے اسرائیلی حکومت اور اس سے وابستہ لابی کے اثرات سے تشکیل پا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha